سورج
اور چاند گرہن کے حوالے سے اگر اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا
ہے کہ احادیثمیں اس کے بارے میں واضح ہدایات
موجود ہیں اور بڑی احادیث کی کتب میںچاند
اور سورج گرہن پر پورے پورے ابواب باندھے گئے ہیں
قدیم
مذاہب میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور تھے‘ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا
کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔
چنانچہ
بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن آپ ﷺکے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے۔ حضورِ اقدس ﷺنے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس
میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرمایا
مزید
تفصیل کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں
مزید اسلامی معلومات کے لئے ہمارا چینل بھی سبسکرائب کریں
اور مہربانی کر کے ہماری ویڈیوز کو لائک اور شیئر ضرور کریں ( شکریہ)
صحابہ نےزیادہ عبادت کا حکم دینے کا کہا تو آپ ﷺکیوں ناراض ہوئے
ایمان کا مزا کس نے پایا
Hadees No 20
باب: رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺلوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی (اس پر) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں (آپ تو معصوم ہیں) اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔
Hadith in English
Narrated 'Aisha: Whenever Allah's Apostle ordered the Muslims to do something, he used to order them deeds which were easy for them to do, (according to their strength and endurance). They said, "O Allah's Apostle! We are not like you. Allah has forgiven your past and future sins." So Allah's Apostle became angry and it was apparent on his face. He said, "I am the most Allah fearing, and know Allah better than all of you do."
Hadees No 21 Sahih al Bukhari
باب: جو آدمی کفر کی طرف واپسی کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھے، تو اس کی یہ روش بھی ایمان میں داخل ہے۔
اس حدیث کو ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، وہ انس رضی اللہ عنہ سے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے۔
Hadith in English
Narrated Anas: The Prophet said, "Whoever possesses the following three qualities will taste the sweetness of faith: 1. The one to whom Allah and His Apostle become dearer than anything else. 2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake. 3. Who hates to revert to disbelief (Atheism) after Allah has brought (saved) him out from it, as he hates to be thrown in fire."
بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ نا شرعی لحاظ سے کیسا ہے ؟
سوال
کیا نکاح کے بعد بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی
ہے؟
بعض لوگ اس کو حرام
اور کفار کا طریقہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
جواب:
بیوی کا اپنے نام کے ساتھ بطورِ نسبت شوہر کا نام جوڑنا اور
کسی کا اپنی ولدیت تبدیل کرنا دو الگ الگ مسئلے ہیں جبکہ کچھ لوگ مسئلہ کی نوعیت سمجھے
بغیر دونوں پر ایک ہی حکم جاری کر دیتے ہیں جو عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنتا
ہے۔ لہٰذا ہم ذیل میں دونوں موضوعات پر الگ الگ دلائل پیش کر رہے ہیں تاکہ حقیقت کھل
کر سامنے آ جائے
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:
تم اُن (مُنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا
کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ)
دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔
آیت
مبارکہ میں منہ بولے بیٹوں کو منہ بولے باپ کے نام سے پکارنے کی بجائے اُن کے والد
کے نام سے پکارنے کا حکم دیا کیا گیا ہے۔ اور احادیث مبارکہ میں ولدیت تبدیل کرنے والے
کے لئے سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں:
صحیح
بخاری - حدیث نمبر: 4326 ---
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا
کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔
صحیح
بخاری - حدیث نمبر: 6768 ---
حضرت ابوہریرہ ؓ
نے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے
باپ سے منہ موڑتا ہے (اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو) یہ کفر ہے ۔
“
مثلاً
پاکستانی، عربی، دمشقی، کوفی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، نقشندی، چشتی، سہروردی،
سلفی دیوبندی وغیرہ سب نسبتیں ہیں جو پہچان کے لئے نام کے ساتھ لگائی جاتی ہیں لیکن
ولدیت تبدیل نہیں ہوتی،
لہٰذا بیوی
کی نسبت بھی پہچان کے لئے اس کے شوہر کی طرف کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا جس کی مثالیں
قرآن وحدیث سے ملتی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اللہ
نے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہے نوح (علیہ السلام) کی عورت اور لوط (علیہ
السلام) کی عورت کی مثال بیان فرمائی ہے۔التحريم، آیت10
اور
حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبد اﷲ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ نے حاضر
ہو کر اجازت مانگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ(ﷺ)! زینب آنا چاہتی ہیں۔ فرمایا کہ
کونسی زینب؟ عرض کی گئی:
امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حضرت
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔
[صحیح بخاری]حدیث نمبر: 1462 ---
اس
موقع پر حضور نبی کریم ﷺکے سامنے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے نسبت ان
کے والد کی بجائے شوہرعبد اﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی لیکن آپ ﷺنے منع
نہیں فرمایا کیونکہ یہ نسبت پہچان کے لئے تھی نہ کہ ولدیت تبدیل کرنے لئے تھی۔
اسی طرح احادیث مبارکہ
کی اسناد میں ازواج مطہرات کی نسبت متعدد بار حضور نبی کریم ﷺکی طرف کی گئی ہے
لہٰذا عورت اپنی پہچان کے لیے اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام
جوڑ سکتی ہے۔ مذکورہ بالا میں ہم نے واضح کر دیا ہے کہ نسب کے اظہار کے لیے اپنی ولدیت
تبدیل کرنا حرام ہے جبکہ کسی عورت کی پہچان کے لیے اس کی نسبت شوہر کی طرف کرنا جائز
ہے۔ قرآن وحدیث میں اپنے والد کی بجائے کسی اور کو والد ظاہر کرنے کی ممانعت ہے جبکہ
بیوی کی نسبت شوہر کی طرف کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔
اسی پوسٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لئےدرج ذیل لنک پر کلک کریں یا مزید اچھے اچھے موضوعات پر اسلامی معلومات کے لئے ہمارا یو ٹیوب چینل بھی سبسکرائب کریں
امام صاوی کے مطابق اگر کاغذ پر اللہ کا نام لکھا ہوا ہو اور کوئی مسلمان جان بوجھ کر اسے نہ اٹھائے تو اس پر کفر ثابت ہو جاتا ہے۔ اس فرمان کی کیا حیثیت ہے؟
جواب جاننے کے لئے ویڈیو پر کلک کریں
اسلامی معلومات کے لئے ہمارا چینل سبسکرائب کریں اور ویڈیوز کو لائک اور شیئر کریں